نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ
طارق بٹ ایک صاحبِ اسلوب اور تخلیقی موج سے بھرپور شاعر ہیں۔لہٰذا اُن کے اب تک
دو مجموعے طبع ہوچکے ہیں۔ اور تیسرے مجموعے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ سامنے ہی نہیں بلکہ اس نے تو میری تفہیمی صلاحیتوں کو اس طرح آوازدی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل شاعری پر مسلسل غورکرتا رہا ہوں۔ویسے اس غوروفکر کو ان کے ایک فقرے نے مزید مہمیز کیا ہے جوانھوں نے اپنے دوسرے مجموعے کے ابتدائیہ میں درج کیا تھا اور وہ یہ تھا: ’’میں اپنی حیرتوں کا اسیر رہا ہوں اور میں نے انھی حیرتوں سے کچھ رنگ لے کراپنے شعر کا منظرنامہ تصویرکرنے کی بساط بھرکوشش کی ہے۔‘‘ اس فقرے کے تناظرمیں مجھے ان کی شاعری ایک ایسی حیرت سرا میں لے گئی جہاں موضوعات اپنی نئی معنویت میں لپٹے اپنے قاری کو ایک ایسی فضا میں لے جاتے ہیں جہاں حیرتیں لفظ و معنیٰ میں پرواز کرتی اور اپنی تخلیقی وارفتگی کا اعلان کرتی ہیں۔۔۔کسی شاعر کا اس انداز میں کلام کرنا اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف شاعرہے بلکہ اپنی ایک علاحدہ تخلیقی جہت تک رسائی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشاں ہے۔طارق بٹ کی شاعری صوتی اور معنوی لحاظ سے الفاظ کی ایک ایسی صناعی ہے جہاں انفس و آفاق سے متعلق تصویریں بکھری ہوئی ہیں۔یہ شاعری توازن اور تناسب کی شاعری ہے۔اس میں کلاسیک کا آہنگ بھی موجودہے اور جدیدحسیت کی رو بھی۔انھوں نے لفظ کے تمام تر امکانات کو اُجاگرکرنے کی سعی کی ہے جس سے ان کی شاعری روشن اور واضح ہوگئی ہے۔ داخلی کیفیات کے ساتھ خارجی موضوعات کو بھی انھوں نے نہایت سلیقے سے اپنی شاعری کا جزو بنایا ہے۔اس بنا پر ان کی شاعری لفظ و معنیٰ کے نئے شعری افق تلاش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔مروجہ سطحی موضوعات سے گریز کرتے ہوئے انھوں نے خود کو ایک پرت کی شاعری سے بجا طورپر بچانے کی کوشش کی ہے لہٰذا ان کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ہی ساتھ ایک نیا لہجہ ظہورکرتا ہوا نظر آتا ہے۔طارق بٹ کے ہاں لسانی تجربات اور تشکیلات بھی موجود ہیں لیکن اتنی کثرت سے نہیں کہ مروجہ شعری آہنگ پرغالب آجائیں۔مثلاً انھوں نے ’’آشنایا‘‘ــ’’دھیاننا‘‘ضرور لکھا ہے لیکن ’’دھیان‘‘ اور’’ آشنائی‘‘ کی معنویت پر آنچ نہیں آنے دی۔بہرحال اُن کے اس تازہ مجموعے میں ایک بات غالب اور قابلِ ذکر ہے کہ ان کی مجموعی شاعری میں فکری رچاؤ اور اظہاروبیان کی سلاست اور وسعت میں ترفع دکھائی دیتا ہے۔یہ ترفع ہی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعرنہ صرف اپنے تخلیقی رویہ میں سنجیدہ ہے بلکہ اپنی شعری روایت سے بھی جڑا ہوا ہے۔وہ اپنے شاعرانہ اظہار میں کسی خارجی منطق کے پابند نہیں ہیں۔وہ جیسا محسوس کرتے اور جیسا سوچتے ہیں اُسے ویسا ہی شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ یہاں ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ شاعرانہ خیال کی تحریک اگرچہ غوروفکر،جذباتی ہیجان اور احساس کی شدت سے پیدا ہوتی ہے لیکن کسی بھی احساس یا جذبے کو شاعری کی اسا س نہیں کہا جاسکتا۔شاعری کے لیے تصوریت بھی ضروری ہوتی ہے کیونکہ جذبے ، احساس اور تصوریت کے امتزاج سے ہی اچھی شاعری جنم لیتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ طارق بٹ کے ہاں جذبہ بھی ہے،غوروفکر بھی ہے، تصوریت بھی ہے اور فنی مقتضیات کا التزام بھی ۔اس لیے ان کی شاعری میں شاعری سوچتی اوربولتی ہوئی نظرآتی ہے گویا اپنا اعلان کرتی ہے۔ویسے سلیم احمد نے ایک جگہ لکھا تھا کہ’’تجارت اور شاعری دونو ں میں قیمت تیار شدہ مال کی ہوتی ہے‘‘اور طارق بٹ کی شاعری اس قیمت پر پوری اترتی ہے۔۔۔خیر، بات دورنکل رہی ہے اس لیے میں یہاں طارق بٹ کے کچھ اشعار پیش کر دوں، تاکہ سلیم احمد کے تجزیے کی تصدیق ہوسکے۔
دو مجموعے طبع ہوچکے ہیں۔ اور تیسرے مجموعے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ سامنے ہی نہیں بلکہ اس نے تو میری تفہیمی صلاحیتوں کو اس طرح آوازدی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل شاعری پر مسلسل غورکرتا رہا ہوں۔ویسے اس غوروفکر کو ان کے ایک فقرے نے مزید مہمیز کیا ہے جوانھوں نے اپنے دوسرے مجموعے کے ابتدائیہ میں درج کیا تھا اور وہ یہ تھا: ’’میں اپنی حیرتوں کا اسیر رہا ہوں اور میں نے انھی حیرتوں سے کچھ رنگ لے کراپنے شعر کا منظرنامہ تصویرکرنے کی بساط بھرکوشش کی ہے۔‘‘ اس فقرے کے تناظرمیں مجھے ان کی شاعری ایک ایسی حیرت سرا میں لے گئی جہاں موضوعات اپنی نئی معنویت میں لپٹے اپنے قاری کو ایک ایسی فضا میں لے جاتے ہیں جہاں حیرتیں لفظ و معنیٰ میں پرواز کرتی اور اپنی تخلیقی وارفتگی کا اعلان کرتی ہیں۔۔۔کسی شاعر کا اس انداز میں کلام کرنا اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف شاعرہے بلکہ اپنی ایک علاحدہ تخلیقی جہت تک رسائی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشاں ہے۔طارق بٹ کی شاعری صوتی اور معنوی لحاظ سے الفاظ کی ایک ایسی صناعی ہے جہاں انفس و آفاق سے متعلق تصویریں بکھری ہوئی ہیں۔یہ شاعری توازن اور تناسب کی شاعری ہے۔اس میں کلاسیک کا آہنگ بھی موجودہے اور جدیدحسیت کی رو بھی۔انھوں نے لفظ کے تمام تر امکانات کو اُجاگرکرنے کی سعی کی ہے جس سے ان کی شاعری روشن اور واضح ہوگئی ہے۔ داخلی کیفیات کے ساتھ خارجی موضوعات کو بھی انھوں نے نہایت سلیقے سے اپنی شاعری کا جزو بنایا ہے۔اس بنا پر ان کی شاعری لفظ و معنیٰ کے نئے شعری افق تلاش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔مروجہ سطحی موضوعات سے گریز کرتے ہوئے انھوں نے خود کو ایک پرت کی شاعری سے بجا طورپر بچانے کی کوشش کی ہے لہٰذا ان کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ہی ساتھ ایک نیا لہجہ ظہورکرتا ہوا نظر آتا ہے۔طارق بٹ کے ہاں لسانی تجربات اور تشکیلات بھی موجود ہیں لیکن اتنی کثرت سے نہیں کہ مروجہ شعری آہنگ پرغالب آجائیں۔مثلاً انھوں نے ’’آشنایا‘‘ــ’’دھیاننا‘‘ضرور لکھا ہے لیکن ’’دھیان‘‘ اور’’ آشنائی‘‘ کی معنویت پر آنچ نہیں آنے دی۔بہرحال اُن کے اس تازہ مجموعے میں ایک بات غالب اور قابلِ ذکر ہے کہ ان کی مجموعی شاعری میں فکری رچاؤ اور اظہاروبیان کی سلاست اور وسعت میں ترفع دکھائی دیتا ہے۔یہ ترفع ہی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعرنہ صرف اپنے تخلیقی رویہ میں سنجیدہ ہے بلکہ اپنی شعری روایت سے بھی جڑا ہوا ہے۔وہ اپنے شاعرانہ اظہار میں کسی خارجی منطق کے پابند نہیں ہیں۔وہ جیسا محسوس کرتے اور جیسا سوچتے ہیں اُسے ویسا ہی شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ یہاں ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ شاعرانہ خیال کی تحریک اگرچہ غوروفکر،جذباتی ہیجان اور احساس کی شدت سے پیدا ہوتی ہے لیکن کسی بھی احساس یا جذبے کو شاعری کی اسا س نہیں کہا جاسکتا۔شاعری کے لیے تصوریت بھی ضروری ہوتی ہے کیونکہ جذبے ، احساس اور تصوریت کے امتزاج سے ہی اچھی شاعری جنم لیتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ طارق بٹ کے ہاں جذبہ بھی ہے،غوروفکر بھی ہے، تصوریت بھی ہے اور فنی مقتضیات کا التزام بھی ۔اس لیے ان کی شاعری میں شاعری سوچتی اوربولتی ہوئی نظرآتی ہے گویا اپنا اعلان کرتی ہے۔ویسے سلیم احمد نے ایک جگہ لکھا تھا کہ’’تجارت اور شاعری دونو ں میں قیمت تیار شدہ مال کی ہوتی ہے‘‘اور طارق بٹ کی شاعری اس قیمت پر پوری اترتی ہے۔۔۔خیر، بات دورنکل رہی ہے اس لیے میں یہاں طارق بٹ کے کچھ اشعار پیش کر دوں، تاکہ سلیم احمد کے تجزیے کی تصدیق ہوسکے۔ تم جو شررسا دیکھتے ہو میری راکھ میں
وہ شعلگی کی سمت، سفر کر نہیں رہا
وہ دردبن کے سلگتے رہے ہیں آنکھوں میں
بہت سے خواب کہ معنی جنھیں دیے نہ گئے
دل بھی کیا خوش طلب ہے ،مانگتا ہے
حسبِ راحت،رسد ملال کی بھی
کہا تھا نہ کر دل کو صرفِ تماشا
کہا تھا ناں، ہاتھوں سے جاتا رہے گا
جوں بگولے کے سنگ ہو خاشاک
چلے جاتے ہیں تیرے ساتھ لگے
تم نہیں جانتے، میں جانتا ہوں
دکھ ہی دکھ ہے یہ جاننا سارا
وہ جو، باایں روز بھی صاحبِ کردار ہیں
اُن کے آگے کیا بھلا نام و نسب کا آئنہ
دیکھ: کتنی تیز ہے دنیا میں تبدیلی کی رو
دیکھ تیرے سامنے رکھا ہے کب کا آئنہ
جانے کس زندگی کی خواہش میں
ہم اِدھر، تم اُدھر رہے آباد
ایک آندھی سی روز چلتی ہے
ایسے میں کیا شجر رہے آباد
ہے ابھی اس میں خیرگی کی رمق
آنکھ پتھرہوئی نہ حیرت سے
کیا ہے روشن چراغ سے باہر
جل گیا جو چراغ میں کیا ہے
کبھی میں اپنے لیے اجنبی نہ تھا ایسا
کوئی ہے سارا کا سارا،بدل گیا مجھ کو
سنائی دینے لگے ہیں خزاں کے سازینے
لوا ب چمن سے،جلوسِ بہار اٹھتا ہے
سوئے افلاک اڑاجاتا ہوں
خواب پر خواب بدلتا ہوا میں
طارق بٹ کی شاعری کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پرپہنچا ہوں کہ وہ فکرواحساس کے وسیلے سے ایک پُرگوشاعر ہیں۔اُن کے ہاں کہیں کہیں، ان کے عصرکی آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن یہ آوازیں ان کے ہاں اپنا ایک علاحدہ سبھاؤ لے کر وارِد ہوئی ہیں ، اسی لیے بلاتردّد کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی وضع کے ایک الگ شاعر ہیں۔مصرع کی بنت سے لے کر خیال کی نرت تک،ان کے ایک ایسے شاعر ہونے پر گواہ ہے جو اپنے خیال و فکر کے زاویے الگ سے بنانے پر مصرہے۔وہ کسی بھی دھارے اور تحریک سے خود کو
الگ کرکے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے تلازمات اور لفظیات اپنے پڑھنے والے کا دھیان کسی اور طرف نہیں لے جاتے۔یہی وجہ ہے کہ مذہبی لفظیات بھی ان کی شاعری میں ہیجان خیز انداز میں وارِد نہیں ہوئی ہیں۔روح کی سچائی اور عشق کی تابانی نے ان تلازموں کو، لفظیات کو اپنے اندرجذب کرکے نہ صرف شاعری بنادیا ہے بلکہ ان تلازموں اور لفظیات کی معنویت کی محذوف جہتوں کو بڑی ہنرمندی سے آشکارکیا ہے۔
طارق بٹ کی شاعری کے اوصاف و کمالات پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے بلکہ ان کی شاعری کا، ان کے عصر کی شاعری سے تقابل اور موازنہ کرکے بہت سے نئے اور
منفردرُخ واضح کیے جاسکتے ہیں لیکن یہاں میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ طارق بٹ کی شاعری کے نئے گوشے اُجاگر کرنا ہے،لہٰذا طارق بٹ کے کچھ اور اشعار کی تفہیم میں میرے ساتھ شامل ہو جائیے۔
اسی کا عکس دل کی ہر پرت میں
وہی اک رنگ تہہ در تہہ گیا ہے
نہیں خود سے کہاں ملا میں بھی
اک تعارف سے غائبانہ ہے
کون سانچے میں ہوں ڈھلنے والا
آتش ِ عشق پگھلتا ہوا میں
اس نیم نگاہی میں شرابورپڑا ہوں
دوبوند کوئی چشم جو برسا کے گئی ہے
اے رویوںمیں چاشنی کے امیں
تجھ میں اک شخص تلخ سا ہے کون
کوئی اب کیا کسی کو للکارے
سبھی بیٹھے ہوئے ہیں جی ہارے
کیا کروں ایسے خواب کی توضیح
جو ہے تعبیر کے خسارے میں
تھکن منزلوں کی کسے جاسنائیں
چلے جاتے ہیں لب پہ فریاد رکھے
ہمیشہ ہی سرِ تسلیم خم کیے رکھا
علاوہ اس کے کرے کیا، کوئی غلام ترا
میرے سب بھید کہاں کھولے ہیں اس نے مجھ پر
ہیں نہاں خانے مری ذات میں، اپنے لیے بھی
کب یہ تلوارِ معلق احوال
آگے گردن پہ گرے، جانتے ہیں
عذرخواہی ہو کیا کہ اس دل کا
جو بھی جذبہ ہے،انتہائی ہے
کام آئی ہے دشمنوں کی طرح
کوئی پہچان، آزمائی ہوئی
طارق بٹ کے ہاں شاعرانہ تعلّی نہیں ہے اوراگر کہیں ہے تو وہ خوداپنی شناخت کے مثبت پہلوؤں کی تلاش ہے۔وہ اپنی داخلی کیفیات کے اظہارپرتوجہ دیتے ہیں،تاکہ ان کے اشعار ان کے طرزاحساس کی نمائندگی کرسکیں۔وہ جمالیاتی لطف اندوزی کے بھی زیادہ قائل نہیں،جس کی بنا پران کی شاعری میں جسم و جاں کے احوال اور عشق کی پُرفشار صورتحال میں بھی کوئی سوقیانہ اظہار راہ نہیں پاتا ہے۔ یہ کیا کسی شاعر کا کم کمال ہے کہ وہ خالص حسن سے لطف اندوزی کی مزکّی روایت کو عام کرے اور اپنے قاری کے جذباتی،نفسیاتی اور جمالیاتی رویوں کی تہذیب کرے،مگریہ کام صرف وہی شاعر کرسکتا ہے جواپنے اور قاری کی اجتماعی نفسیات اور افتادِ طبع سے مکمل واقفیت پرقادر ہو۔طارق بٹ بلاشبہ ایک ایسے ہی شاعر ہیں۔
خواجہ رضی حیدر
۲۷ اپریل ۲۰۲۳
کراچی
